15 جولائی 2013 - 19:30
دارالحکومت انقرہ اور نواحي شہر حاتاي ميں ايک بار پھر پوليس اور مظاہرين ميں جھڑپيں

ترکي کے دارالحکومت انقرہ اور نواحي شہر حاتاي ميں اتوار اور پير کي درميان شب ايک بار پھر پوليس اور مظاہرين ميں جھڑپيں ہوئي ہيں-

ابنا: حکومت مخالف مظاہروں کے درميان زخمي ہونے والے  ايک طالب علم کي موت کی خبر سامنے آنے کے بعد سيکڑوں کي تعداد ميں لوگ اتوار اور پير کي درميان شب  انقرہ اور حاتائي شہروں کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگانا شروع کئے –  پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے حسب معمول ربڑ کي گولياں، آنسو گيس کي شيلنگ اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا-  پوليس کا کہنا تھا کہ مذکورہ نوجوان کو پوليس نے تشدد کا نشانہ نہيں بنايا تاہم  مقتول کے بھائي کا کہنا ہے سادہ وردي والے پوليس اہلکاروں نےاس کے بھائي  کو زبردست طريقے سے زدو کوب کيا تھا-  پوليس کا کہنا ہے کہ  اس نے مذکورہ علاقے سے حاصل ہونے والي سي سي ٹي وي فوٹيج کے ذريعے حملہ آوروں کو گرفتار کرليا ہے-  دوسري جانب پراسيکيوٹر کا کہنا ہے کہ پوليس نے جو سي سي ٹي وي فوٹيج اسے ارسال کي ہيں وہ انتہائي خراب ہيں اور ان کے ذريعے حملہ آوروں کي شناخت ممکن نہيں- ......./169